Sunday, 26 February 2017
خامہ بکف:صادق رضامصباحی
رابطہ نمبر:09619034199
sadiqraza92@gmail.com/misbahi92@rediffmail.com
مودی جی!آپ زیادہ دنوں تک بیوقوف نہیں بناسکتے
فرانسیسی مفکرکال مارکس نے کہاتھاکہ مذہب افیم ہے ۔اس نے غلط نہیں کہاتھا ، اس کانشہ جب چڑھ جاتاہے توپھراتارے نہیں اترتاکیوںکہ مذہب کے نام پرلوگوں کوجتنابے وقوف بنایاجاسکتاہے اتنا کسی اوربنیادپرنہیں ۔انسان کتناہی مذہب سے لاتعلق ہونے کادعوی کرے لیکن کہیں نہ کہیں اس کے تحت الشعورمیں مذہب پیوست ہوتاہی ہے اورکسی نہ کسی وقت اس کی مذہیبت کارازفاش ہوہی جاتاہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مذہب کاجتنافائدہ سیاسی لیڈران اورمذہبی قائدین اٹھاتے ہیں اتناکسی اورکے لیے ممکن نہیں ہوتا۔اس سلسلے میں ایک نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔وزیراعظم ہندنریندرمودی کی اترپردش کے مختلف علاقوں میں ہورہی تقریریں اسی ضمن میں رکھی جاسکتی ہیں بلکہ یوں کہیے کہ مذہبی کارڈکھیلنے کی ایک بہترین مثال قراردی جاسکتی ہیں ۔ویسے تووزیراعظم نریندرمودی کا پوراتشخص ہی جھوٹ ، فریب کاری اورمکاری سے بناہے لیکن جب سے وہ وزیراعظم بنے ہیں تب سے جھوٹ ،اشتعال انگیزی،نفرت اورجذباتی استحصال پرمشتمل بیانات ایک’’آرٹ‘‘کے طورپرسامنے آئے ہیںاوراس ’’آرٹ‘‘نے مودی کوملک کااب تک کا’’مقبول ‘‘لیڈر‘‘ بنا دیا ہے ۔ظاہرہے کہ جوشخص اس ’’آرٹ‘‘کی بنیادپرگجرات کی وزارت اعلیٰ اورپھرملک کی وزارت عظمی کے مناصب تک پہنچ سکتاہے تواس ’’آرٹ‘‘کواپنانے میں حرج ہی کیاہے چنانچہ ملک کاہرچھوٹابڑافرقہ پرست لیڈراس کے سہارے ترقی کاخواہش مندہے اورمودی ان کی قیادت کررہے ہیں۔
وزیراعظم ہندنے کچھ دنوں قبل فتح پورکی انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گائو ںمیں اگرقبرستان بنے توشمشان بھی بنناچاہیے اوراگررمضان میں بجلی آتی ہے توپھرہولی اوردیوالی پربھی آنی چاہیے ۔ ظاہر ہے کہ ان جملوں کی صداقت سے توانکارنہیں کیاجاسکتالیکن یہ جملے جس پس منظراورجس فرقہ وارانہ ذہنیت کے ساتھ ان کی زبان سے اداہوئے ہیں اس کے اندرجھانکنے سے یہ اندازہ بآسانی لگایاجاسکتاہے کہ وہ ۲۰۱۴ء کی طرح وہ ایک بارپھرملک کی سب سےبڑی ریاست اترپردیش کے اقتدارپرقابض ہونے کاخواب دیکھ رہے ہیں ۔دودن قبل ہوئی گونڈہ کی تقریرمیں انہوںنے کانپورمیں ہوئے ریل حادثے کوآئی ایس آئی سے جوڑکرہندئوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی ۔لگتاہے کہ ا ب ا ن کے پاس کہنے کے لیے کچھ اورنہیں بچاہے ۔ رام مندرکے ایشو کی ہوانکل چکی ہے ،نوٹ بندی کے اثرات نے مودی حکومت کی کمرتوڑدی ہے ،ڈیجیٹل انڈیااورمیک انڈیاکے نعرے بھی ہوامیں تحلیل ہوچکے ہیں ۔اب بس ایک ہی نسخہ بچاہے اوروہ ہے ہندومسلم کارڈ ۔ کیوں کہ یہ بات نریندرمودی سے بہتراورکون جان سکتاہے کہ اس کارڈسے وہ اپنے خوابوں کوبہترین تعبیردے سکتے ہیںاورہندوئوںکوبیوقوف بناسکتے ہیں ۔یہا ںسوال یہ ہے کہ کیاملک کے ہندو اتنے بیوقوف ہیں کہ وہ آسانی سے مذہب کی باتوں میں آجاتے ہیں اورمذہب کے نام پراستحصال کرنے والوں کے دامن سے وابستہ ہوجاتے ہیں؟
یہ بات ویسے ہرقوم کے لیے درست ہے مگریہ ہمارے برادران وطن کے لیے سب سے زیادہ درست ہے ۔اس قوم میں ۸۰فیصدوہ لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں کانام لے کرآسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے ۔ملک کی گزشہ ایک صدی کی سیاسی تاریخ اس کی گواہ ہے ۔سیاسی لیڈران اپنے مطلب کے لیے ان کے سامنے مسلمانوںکودشمن کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اوریہ لوگ اپنے مذہب کومسلمانوںسے ’’بچانے‘‘کے لیے متحدہوجاتے ہیں اوراندھے،بہرے ،گونگے اورلنگڑے بن کرلیڈروںکے ساتھ چل پڑتے ہیں چاہیں ان کااس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ہندوستان میں فسادات ہونے کابس ایک یہی راز ہے ۔جب تک یہ ’’مذہبی‘‘نشہ ختم نہیں ہوگاتب تک ملک کے حالات بدلنے والے ہرگزنہیں ۔
یہ ہمارے ملک کیابلکہ پورے برصغیرکی بدنصیبی ہے کہ اسے ایسے ہی حکمراں ملے ہیں جوآج تک اپنے شہریوں کوصرف استعمال کرتے آرہےہیں اوران کے مذہبی جذبات کے استحصال سے پورے ملک پرمسلط ہوجاتے ہیں۔برصغیرکے حکمرانوں کی اس پوری تاریخ میں ہمارے ملک کے موجودہ وزیراعظم ان سب میں ایک نہیں کئی قدم آگے ہیں ۔انہوںنے مذہب کانام لے کرملک کے شہریوں کوجتنا بیوقوف بنایاہے اتناکسی اورنے نہیں بنایایایوں کہہ لیجیے کہ جتنافائدہ مودی نے اٹھایاہے اتناکسی اورنےنہیں ا ٹھایا۔فتح پوراورگونڈہ کی حالیہ تقریرمیں تووہ بظاہریوپی کی حکومت اکھلیش یادوکے خلاف بول رہے تھے لیکن در اصل وہ اکھلیش یادوکے خلاف نہیں بلکہ لوگوںکومشتعل کرکے بی جے پی کے حق میں راہ ہموارکررہے تھے کیوں کہ بی جے پی کی ترکش کے سارے تیرناکام ہوچکے ہیں ،انہوںنے ہر تیر آزما لیا ، کچھ نے اپنا کام کردکھایااورکچھ بے کارگئے اورکچھ زنگ آلودہوگئے مگرہندومسلم کارڈاورمذہبی منافرت کاتیرایسانسخہ ہے جوہمیشہ نشانے پرجاکرفٹ بیٹھتاہے ۔یہ تو۱۱مارچ کے دن ہی معلوم ہوگاکہ مودی کی اشتعال انگیز تقریروں نے کتنااثردکھایامگراتناتوطے ہے کہ مودی اوران کی پوری ٹیم کے پاس اس کے سواکچھ اورہے ہی نہیں جسے دکھاکروہ شہریوں سے اپنے حق میں ووٹنگ کرنے کی اپیل کریں۔اگران کے پاس ترقیاتی کام ہوتاتوانہیں انہیں پیش کرنے میں کیوں پس وپیش ہورہاتھا ۔اگرانہوںنے مرکزی الیکشن میں جووعدے عوام سے کیے تھے ،وہ پورے کیے ہوتے توانہیں فخر سے بتانے میں کون سی رکاوٹ تھی مگر چوں کہ اب پلّے میں کچھ نہیں ہے اوروہ جانتے ہیں کہ ہندونہایت بیوقوف لوگ ہیں ،انہیں مسلمانوں سے ڈراکراپنی مرضی کاکام لیاجاسکتاہے سووہ کرتے چلے آرہے ہیںاوریہ اس وقت چلتارہے گاجب تک ہندووئوں میں بیداری نہیں پیداہوجائے گی ۔
اس طرح کے لیڈران نہ کبھی ملک کے ہوئے ہیں اورنہ ہوں گے ،ان کوصرف اپنے مفادات کی فکرہے ۔اگریہ لوگ ہندومسلم کارڈکھیل کرہندئوں کے حق میں ہی کام کرتے تب بھی تھوڑی دیرکے لیے سوچا جاسکتاتھا مگریہاں تومعاملہ ہی الٹاہے ،جن کے ووٹوں سے یہ ایوان تک پہنچتے ہیں انہی کے کام نہیں کرتے ۔انہیں صرف چندخاندانوں کے چندافرادکی فکرہے ملک کے شہریوں کی نہیں۔یہ بے چارے عوام کے پیسے سے چندامیرترین لوگوں کواورزیادہ امیربنانے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ہمارے برادران وطن کویہ بات بھی اچھی طرح ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سیاسی لیڈران خصوصاًمودی اورسیاسی پارٹیاں خصوصاًبی جے پی نہ اتنے مذہبی ہیں جتنے سمجھے جاتے ہیں اورنہ ہی اتنے مسلم مخالف ہیں جتنایہ لوگ ظاہرکرتے ہیںبلکہ سچی بات تویہ ہے کہ یہ ملک کے مخالف لوگ ہیں جوملک کوگھُن کے طرح اندرسے کھائے جا رہے ہیں۔انہیں صرف اپنے مفادات کی فکرہے ۔یہ گولی چلانے کے لیے کندھاکسی کااستعمال کرتے ہیں اورنشانہ لگانے کے لیے رخ کسی اورسمت کرلیتے ہیں ۔یہ دکھاتے کچھ ہیں اورہوتےکچھ ہیں ۔یہ ویسے نہیں ہیں جیسے خودکوظاہرکرتے ہیں ۔یہ دنیاکے منافق ترین لوگ ہیں اورمودی ان سب میں سب سے بڑامنافق ۔مودی جویادرکھناچاہیے کہ وہ صرف ہندوئوں کے وزیراعظم نہیں ہیں ،پورے ملک کے ہیں اورمسلمان اس ملک کی اچھی خاصی تعدادمیں ہیں ۔
اگریوپی میں اس باربھی بی جے پی آگئی توسمجھ لیجیے کہ اس ملک کے اکثرشہریوں کوملک کی کوئی فکرنہیں ہے بلکہ تشویش ہے توبس یہ کہ مسلمان ان کے دشمن ہیں اوروہ ہندوئوںکے لیے خطرہ ہیں۔اگربی جےپی یوپی میں جیت گئی توپھرمیراخیال ہے کہ ۲۰۲۴تک مودی کومرکزسے کوئی نہیں ہلاسکتاکیو ںکہ نوٹوں پرپابندی کے فیصلے کے بعدملک کے جتنے برے حالات ہوئے ہیں اورملک کی معاشی حالت جس قدر کمزورہوئی ہے، یہ ماہرین اچھی طرح جانتے ہیں ،اگران حالات میں بی جے پی آگئی توپھریہ ملک کی بہت بڑی کم نصیبی ہوگی اورجب تک اس کااقتداررخصت ہوگاتب تک ملک اتنی تباہی سے دوچار ہوچکاہوگاکہ جس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھنے کونہیں ملیں گی اورپھراس نقصان کی تلافی کے لیے بعدکی حکومتوں کوبہت جم کرمحنت کرنی پڑے گی ۔ ا س ملک کےہندئوں کویہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہےاورسمجھ میں آبھی نہیں سکتی کیوں کہ جن دلو ں میں نفرت کابیج بودیاگیاتوظاہرہے اس کی کھیتی تواگنی ہی ہے ،اس کے برگ وبارتوآنے ہی ہیں لیکن کب تک ؟یہ ایساسوال ہے جوملک کے دردمندوں کوہمیشہ مضطرب کیے رہتاہے مگرمودی جیسے سیاست دان یادرکھیںکہ قدرت کی لاٹھی میں آوازنہیں ہوتی۔قدرت نے رسی ڈھیلی چھوڑرکھی ہے تواس کامطلب یہ نہیں کہ آپ جوچاہیں کریں ،قدرت اپنے بندوں کے ساتھ ظلم کبھی برداشت نہیں کرسکتی ۔پہلے تووہ اپنے بندوں کوحکم دیتی ہے کہ ظالموں کے خلاف مقاومت کرواورجب ان میں ظالموں کے خلاف مقاومت کرنے کی سکت نہیں رہتی تب پھرقدرت کے انتقام کی چکی گھومنے لگتی ہے ۔اللہ کے یہاں بس کچھ ہی دیرہے ۔آپ شہریوں کوزیادہ دنوں تک بیوقوف نہیں بناسکتے ۔سن رہے ہیں نامودی جی!
رابطہ نمبر:09619034199
sadiqraza92@gmail.com/misbahi92@rediffmail.com
مودی جی!آپ زیادہ دنوں تک بیوقوف نہیں بناسکتے
فرانسیسی مفکرکال مارکس نے کہاتھاکہ مذہب افیم ہے ۔اس نے غلط نہیں کہاتھا ، اس کانشہ جب چڑھ جاتاہے توپھراتارے نہیں اترتاکیوںکہ مذہب کے نام پرلوگوں کوجتنابے وقوف بنایاجاسکتاہے اتنا کسی اوربنیادپرنہیں ۔انسان کتناہی مذہب سے لاتعلق ہونے کادعوی کرے لیکن کہیں نہ کہیں اس کے تحت الشعورمیں مذہب پیوست ہوتاہی ہے اورکسی نہ کسی وقت اس کی مذہیبت کارازفاش ہوہی جاتاہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مذہب کاجتنافائدہ سیاسی لیڈران اورمذہبی قائدین اٹھاتے ہیں اتناکسی اورکے لیے ممکن نہیں ہوتا۔اس سلسلے میں ایک نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔وزیراعظم ہندنریندرمودی کی اترپردش کے مختلف علاقوں میں ہورہی تقریریں اسی ضمن میں رکھی جاسکتی ہیں بلکہ یوں کہیے کہ مذہبی کارڈکھیلنے کی ایک بہترین مثال قراردی جاسکتی ہیں ۔ویسے تووزیراعظم نریندرمودی کا پوراتشخص ہی جھوٹ ، فریب کاری اورمکاری سے بناہے لیکن جب سے وہ وزیراعظم بنے ہیں تب سے جھوٹ ،اشتعال انگیزی،نفرت اورجذباتی استحصال پرمشتمل بیانات ایک’’آرٹ‘‘کے طورپرسامنے آئے ہیںاوراس ’’آرٹ‘‘نے مودی کوملک کااب تک کا’’مقبول ‘‘لیڈر‘‘ بنا دیا ہے ۔ظاہرہے کہ جوشخص اس ’’آرٹ‘‘کی بنیادپرگجرات کی وزارت اعلیٰ اورپھرملک کی وزارت عظمی کے مناصب تک پہنچ سکتاہے تواس ’’آرٹ‘‘کواپنانے میں حرج ہی کیاہے چنانچہ ملک کاہرچھوٹابڑافرقہ پرست لیڈراس کے سہارے ترقی کاخواہش مندہے اورمودی ان کی قیادت کررہے ہیں۔
وزیراعظم ہندنے کچھ دنوں قبل فتح پورکی انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گائو ںمیں اگرقبرستان بنے توشمشان بھی بنناچاہیے اوراگررمضان میں بجلی آتی ہے توپھرہولی اوردیوالی پربھی آنی چاہیے ۔ ظاہر ہے کہ ان جملوں کی صداقت سے توانکارنہیں کیاجاسکتالیکن یہ جملے جس پس منظراورجس فرقہ وارانہ ذہنیت کے ساتھ ان کی زبان سے اداہوئے ہیں اس کے اندرجھانکنے سے یہ اندازہ بآسانی لگایاجاسکتاہے کہ وہ ۲۰۱۴ء کی طرح وہ ایک بارپھرملک کی سب سےبڑی ریاست اترپردیش کے اقتدارپرقابض ہونے کاخواب دیکھ رہے ہیں ۔دودن قبل ہوئی گونڈہ کی تقریرمیں انہوںنے کانپورمیں ہوئے ریل حادثے کوآئی ایس آئی سے جوڑکرہندئوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی ۔لگتاہے کہ ا ب ا ن کے پاس کہنے کے لیے کچھ اورنہیں بچاہے ۔ رام مندرکے ایشو کی ہوانکل چکی ہے ،نوٹ بندی کے اثرات نے مودی حکومت کی کمرتوڑدی ہے ،ڈیجیٹل انڈیااورمیک انڈیاکے نعرے بھی ہوامیں تحلیل ہوچکے ہیں ۔اب بس ایک ہی نسخہ بچاہے اوروہ ہے ہندومسلم کارڈ ۔ کیوں کہ یہ بات نریندرمودی سے بہتراورکون جان سکتاہے کہ اس کارڈسے وہ اپنے خوابوں کوبہترین تعبیردے سکتے ہیںاورہندوئوںکوبیوقوف بناسکتے ہیں ۔یہا ںسوال یہ ہے کہ کیاملک کے ہندو اتنے بیوقوف ہیں کہ وہ آسانی سے مذہب کی باتوں میں آجاتے ہیں اورمذہب کے نام پراستحصال کرنے والوں کے دامن سے وابستہ ہوجاتے ہیں؟
یہ بات ویسے ہرقوم کے لیے درست ہے مگریہ ہمارے برادران وطن کے لیے سب سے زیادہ درست ہے ۔اس قوم میں ۸۰فیصدوہ لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں کانام لے کرآسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے ۔ملک کی گزشہ ایک صدی کی سیاسی تاریخ اس کی گواہ ہے ۔سیاسی لیڈران اپنے مطلب کے لیے ان کے سامنے مسلمانوںکودشمن کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اوریہ لوگ اپنے مذہب کومسلمانوںسے ’’بچانے‘‘کے لیے متحدہوجاتے ہیں اوراندھے،بہرے ،گونگے اورلنگڑے بن کرلیڈروںکے ساتھ چل پڑتے ہیں چاہیں ان کااس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ہندوستان میں فسادات ہونے کابس ایک یہی راز ہے ۔جب تک یہ ’’مذہبی‘‘نشہ ختم نہیں ہوگاتب تک ملک کے حالات بدلنے والے ہرگزنہیں ۔
یہ ہمارے ملک کیابلکہ پورے برصغیرکی بدنصیبی ہے کہ اسے ایسے ہی حکمراں ملے ہیں جوآج تک اپنے شہریوں کوصرف استعمال کرتے آرہےہیں اوران کے مذہبی جذبات کے استحصال سے پورے ملک پرمسلط ہوجاتے ہیں۔برصغیرکے حکمرانوں کی اس پوری تاریخ میں ہمارے ملک کے موجودہ وزیراعظم ان سب میں ایک نہیں کئی قدم آگے ہیں ۔انہوںنے مذہب کانام لے کرملک کے شہریوں کوجتنا بیوقوف بنایاہے اتناکسی اورنے نہیں بنایایایوں کہہ لیجیے کہ جتنافائدہ مودی نے اٹھایاہے اتناکسی اورنےنہیں ا ٹھایا۔فتح پوراورگونڈہ کی حالیہ تقریرمیں تووہ بظاہریوپی کی حکومت اکھلیش یادوکے خلاف بول رہے تھے لیکن در اصل وہ اکھلیش یادوکے خلاف نہیں بلکہ لوگوںکومشتعل کرکے بی جے پی کے حق میں راہ ہموارکررہے تھے کیوں کہ بی جے پی کی ترکش کے سارے تیرناکام ہوچکے ہیں ،انہوںنے ہر تیر آزما لیا ، کچھ نے اپنا کام کردکھایااورکچھ بے کارگئے اورکچھ زنگ آلودہوگئے مگرہندومسلم کارڈاورمذہبی منافرت کاتیرایسانسخہ ہے جوہمیشہ نشانے پرجاکرفٹ بیٹھتاہے ۔یہ تو۱۱مارچ کے دن ہی معلوم ہوگاکہ مودی کی اشتعال انگیز تقریروں نے کتنااثردکھایامگراتناتوطے ہے کہ مودی اوران کی پوری ٹیم کے پاس اس کے سواکچھ اورہے ہی نہیں جسے دکھاکروہ شہریوں سے اپنے حق میں ووٹنگ کرنے کی اپیل کریں۔اگران کے پاس ترقیاتی کام ہوتاتوانہیں انہیں پیش کرنے میں کیوں پس وپیش ہورہاتھا ۔اگرانہوںنے مرکزی الیکشن میں جووعدے عوام سے کیے تھے ،وہ پورے کیے ہوتے توانہیں فخر سے بتانے میں کون سی رکاوٹ تھی مگر چوں کہ اب پلّے میں کچھ نہیں ہے اوروہ جانتے ہیں کہ ہندونہایت بیوقوف لوگ ہیں ،انہیں مسلمانوں سے ڈراکراپنی مرضی کاکام لیاجاسکتاہے سووہ کرتے چلے آرہے ہیںاوریہ اس وقت چلتارہے گاجب تک ہندووئوں میں بیداری نہیں پیداہوجائے گی ۔
اس طرح کے لیڈران نہ کبھی ملک کے ہوئے ہیں اورنہ ہوں گے ،ان کوصرف اپنے مفادات کی فکرہے ۔اگریہ لوگ ہندومسلم کارڈکھیل کرہندئوں کے حق میں ہی کام کرتے تب بھی تھوڑی دیرکے لیے سوچا جاسکتاتھا مگریہاں تومعاملہ ہی الٹاہے ،جن کے ووٹوں سے یہ ایوان تک پہنچتے ہیں انہی کے کام نہیں کرتے ۔انہیں صرف چندخاندانوں کے چندافرادکی فکرہے ملک کے شہریوں کی نہیں۔یہ بے چارے عوام کے پیسے سے چندامیرترین لوگوں کواورزیادہ امیربنانے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ہمارے برادران وطن کویہ بات بھی اچھی طرح ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سیاسی لیڈران خصوصاًمودی اورسیاسی پارٹیاں خصوصاًبی جے پی نہ اتنے مذہبی ہیں جتنے سمجھے جاتے ہیں اورنہ ہی اتنے مسلم مخالف ہیں جتنایہ لوگ ظاہرکرتے ہیںبلکہ سچی بات تویہ ہے کہ یہ ملک کے مخالف لوگ ہیں جوملک کوگھُن کے طرح اندرسے کھائے جا رہے ہیں۔انہیں صرف اپنے مفادات کی فکرہے ۔یہ گولی چلانے کے لیے کندھاکسی کااستعمال کرتے ہیں اورنشانہ لگانے کے لیے رخ کسی اورسمت کرلیتے ہیں ۔یہ دکھاتے کچھ ہیں اورہوتےکچھ ہیں ۔یہ ویسے نہیں ہیں جیسے خودکوظاہرکرتے ہیں ۔یہ دنیاکے منافق ترین لوگ ہیں اورمودی ان سب میں سب سے بڑامنافق ۔مودی جویادرکھناچاہیے کہ وہ صرف ہندوئوں کے وزیراعظم نہیں ہیں ،پورے ملک کے ہیں اورمسلمان اس ملک کی اچھی خاصی تعدادمیں ہیں ۔
اگریوپی میں اس باربھی بی جے پی آگئی توسمجھ لیجیے کہ اس ملک کے اکثرشہریوں کوملک کی کوئی فکرنہیں ہے بلکہ تشویش ہے توبس یہ کہ مسلمان ان کے دشمن ہیں اوروہ ہندوئوںکے لیے خطرہ ہیں۔اگربی جےپی یوپی میں جیت گئی توپھرمیراخیال ہے کہ ۲۰۲۴تک مودی کومرکزسے کوئی نہیں ہلاسکتاکیو ںکہ نوٹوں پرپابندی کے فیصلے کے بعدملک کے جتنے برے حالات ہوئے ہیں اورملک کی معاشی حالت جس قدر کمزورہوئی ہے، یہ ماہرین اچھی طرح جانتے ہیں ،اگران حالات میں بی جے پی آگئی توپھریہ ملک کی بہت بڑی کم نصیبی ہوگی اورجب تک اس کااقتداررخصت ہوگاتب تک ملک اتنی تباہی سے دوچار ہوچکاہوگاکہ جس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھنے کونہیں ملیں گی اورپھراس نقصان کی تلافی کے لیے بعدکی حکومتوں کوبہت جم کرمحنت کرنی پڑے گی ۔ ا س ملک کےہندئوں کویہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہےاورسمجھ میں آبھی نہیں سکتی کیوں کہ جن دلو ں میں نفرت کابیج بودیاگیاتوظاہرہے اس کی کھیتی تواگنی ہی ہے ،اس کے برگ وبارتوآنے ہی ہیں لیکن کب تک ؟یہ ایساسوال ہے جوملک کے دردمندوں کوہمیشہ مضطرب کیے رہتاہے مگرمودی جیسے سیاست دان یادرکھیںکہ قدرت کی لاٹھی میں آوازنہیں ہوتی۔قدرت نے رسی ڈھیلی چھوڑرکھی ہے تواس کامطلب یہ نہیں کہ آپ جوچاہیں کریں ،قدرت اپنے بندوں کے ساتھ ظلم کبھی برداشت نہیں کرسکتی ۔پہلے تووہ اپنے بندوں کوحکم دیتی ہے کہ ظالموں کے خلاف مقاومت کرواورجب ان میں ظالموں کے خلاف مقاومت کرنے کی سکت نہیں رہتی تب پھرقدرت کے انتقام کی چکی گھومنے لگتی ہے ۔اللہ کے یہاں بس کچھ ہی دیرہے ۔آپ شہریوں کوزیادہ دنوں تک بیوقوف نہیں بناسکتے ۔سن رہے ہیں نامودی جی!
گودھراسانحہ کی پندرہویں برسی کے موقع پر
خامہ بکف:صادق رضامصباحیرابطہ نمبر:09619034199
sadiqraza92@gmail.com/misbahi92@rediffmail.com
کیااک اورگودھراہونے کوہے؟
’’کیاایک اورگودھراہونے کوہے ؟‘‘۔’’جی ہاں‘‘۔’’کیوں؟‘‘اس لیے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی بیماری یہ ہے کہ یہ کسی حادثے سے کوئی سبق لینانہیں چاہتے ۔یہ نمازپڑھتے ہیں،روزے رکھتے ہیں،زکوٰۃ دیتے ہیں ،حج کرتےہیں اورمطمئن ہوکربیٹھ جاتے ہیں کہ اللہ ہم سے خوش ہےاب جنت توہماری ہی ہے ۔زندگی کے دوسرےمسائل سے یہ اس طرح آنکھیں موندکربیٹھے ہیں جیسے اسلام میں ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔اس سیاق میں آئیے ذرااپنے حالات جائزہ لیں۔گودھر حادثے کوپندرہ سال بیت چکے مگرحالات میں ذرہ برابربھی فرق نہیں آیا۔ گودھرا کا سانحہ اس لیے پیش آیاتھا کہ مسلمانوںنے اس سے پہلے کے حادثات سے کوئی سبق نہیںسیکھاتھااوراس حادثے سے بھی انہوںنے کوئی سبق ازبرنہیں کیاتوکیا ہمیں ایک اور ’’گودھرا‘‘ کے لیے تیار رہناچا ہیے ۔؟ جب تک طالب علم ہوم ورک نہیںکرتا،سبق یاد نہیںکرتاتواستاذکومجبوراًبچے کے لیےڈنڈااٹھاناہی پڑتاہے ۔سویہ حادثات ’’ڈنڈے‘‘ہیں جواستاذیعنی قدرت کی طرف سے مسلمانوں پربرس رہے ہیں اور اس وقت تک برستے رہیں گے جب تک کہ انہیں ان کابھولاہواسبق ازبرنہیںہوجاتا۔یہاں سوال یہ ہے کہ مسلمانوںکوکیاہوگیاہے ،وہ اپناسبق یادکیوں نہیں کرتے ۔؟ جواب بالکل آسان اورسادہ ہے۔سبق وہی طالب علم یاد کرتا ہے جسے مستقبل میں کچھ کرنے اورآگے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے اوراگرجسے آگے بڑھنے کی خواہش توہومگروہ سبق یادنہ کرے توپھروہ پوری زندگی لن ترانیاں،تعلیاںاوربالاخوانیاں ہی کرسکتاہے ،اس کے سواکچھ اورکرہی نہیں سکتا۔ آپ مسلمانوں کے حالات دیکھیں تویہ مثال پوری طرح فٹ نظرآتی ہے۔ہمارے دلوںمیں عظمت رفتہ کانشہ چھایا ہوا ہے اورہماری زبانیں ہمیشہ اپنی شوکت ماضیہ پر بڑبڑکرتی رہتی ہیںتواگرہم ان جیسے حادثات سے کچھ نہ سیکھیں توکوئی تعجب کی بات نہیں۔خیراب شکایات کاپلندہ کھولنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔بس کوشش یہ ہے کہ مسلمان گودھراسانحہ کاسبق پھرسے یادکرلیں ،ممکن ہے کہ کسی کی آنکھ نم ہوجائے اوروہ یا اس کے اپنے بچے ،طالب علم اورماتحت کوکسی عملی کام میں لگ جائیں ۔آج سے ٹھیک پندرہ سال قبل گودھراسانحہ پیش آیاجس کی وجہ سے گجرات میں پانچ ہزاربے قصورمسلمانوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔حادثے کے بعد مسلمانوںکے خلاف گواہیاں ان لوگوں نے دیں جوجائے حادثہ پرموجودہی نہ تھے۔ان گواہیوں کے نتیجے میں ۴۱مسلمانوں کوجیل کی سلاخوں کے پیچھے ۹سال تک قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔اِس وقت کے وزیراعظم اوراُس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی کی سرپرستی میں ظلم وتشددکاکھیل کھیلاجاتارہامگرمسلمان بے بسی کی تصویربنے رہے۔آئیے جانیں کہ اس دن کیاہوا،کیسے ہوااورکیوںکرہوا۔
سابرمتی ایکسپریس ۲۵فروری ۲۰۰۲ء کوآیودھیاسے چلی توآرایس ایس کے کچھ کارسیوک اس کی بوگی نمبرایس ۶میںسوارہوگئے۔ٹرین جس اسٹیشن پربھی رکتی وہاں وہ اپنی غنڈہ گردی کرتے ، نعرے لگاتے ،چائے والوں سے کھانے پینے کی اشیالے لیتے اورپیسے نہ دیتے ۔ایودھیاسے گودھراتک جے شری رام کے نعرے زوروشورسے لگاتے آرہے تھے ۔بوگی میں چنددوسرے لوگوںکے سوا مسلمان بھی تھے ،انہیں پریشان کرتے، ان سے زبردستی جے شری رام کانعرہ لگواتے اوراگروہ منع کرتے توانہیںمارتے اورانہیں ٹارچرکرتے ۔ٹرین۲۷فروری کو پانچ گھنٹہ تاخیرسے صبح ۷بج کر۴۳منٹ پر گودھراسٹیشن پلیٹ فارم نمبرایک پرآکررکی ۔اس کے پہنچے کاوقت یہاںرات کو۲بج کر۵۵منٹ ہے ۔
اسی سابرمتی ایکسپریس میں گووندسنگھ رتناسنگھ پنڈانامی ایک آدمی لکھنوسے سوارہوئے تھے ۔انہوںنے احمدآبادہائی کورٹ کوبتایاتھاکہ ’’ ٹرین کے بوگی نمبرایس ۶میں میری ریزرویشن سیٹ ۹تھی مگر بوگی میں موجودبجرنگ دل کے کارکنان نے مجھے ۳نمبرسیٹ پربٹھادیا۔اس پوری بوگی میں ۲۵۹لوگ تھے ،یہ بجرنک دل کے ممبران تھےاورزیادہ ترلوگوں کے ریزرویشن نہیں تھے ۔ہراسٹیشن پر یہ لوگ اتر جاتے اورجے شری رام کے نعرے لگاتے تھے ۔۲۷فروری کے دن جب جب ٹرین ساڑھے سات بجے گودھرااسٹیشن پہنچی توان لوگوں نے نیچے اترکرنعرے بازی شروع کردی اوراس آوازسے میں اٹھ بیٹھا۔ میرے کوچ سے دس یابارہ لوگ اسٹیشن پراترے اوردیگربوگیوں سے بھی آرایس ایس بجرنگ دل کے ارکان اترآئے اورنعرے بازی کرنے لگے ۔ نعرے بازی سے گودھرااسٹیشن شوروغل میں ڈوب گیا۔تین چارمنٹ کے بعدچندمسافرین بھاگتے ہوئے کوچ کے اندرآئے ،انہوںنے دروازہ بندکرلیااوربتایاکہ پلیٹ فارم پرجھگڑاہوگیاہے اورپتھرپھینکے گئے ہیں۔ انہوںنے ہرمسافرسے کہاکہ کہ بوگی کی کھڑکیاں بندکرلو۔‘‘
کورٹ میں چندعینی شاہدین نے بتایاتھا کہ گودھرااسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبرایک پرچائے بیچنے والے ایک مسلمان اورکارسیوکوںکے درمیان جھگڑاہوگیاتھا۔ایس ۶ہی میں سفر کر رہے ویرچیدی پال نے کورٹ کوبتایاکہ کوچ میں ایک مسلم چائے بیچنے والاآیاتوکارسیوکوںنے اسے ماراپیٹااوراسے کمپارٹ مینٹ کے باہرپھینک دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق کارسیکوں نے کوچ میں بیٹھی ایک مسلم خاتون کا نقاب نوچ ڈالا۔انہوںنے مسلم فیملی سے جے شری رام کے نعرے بلندکرنے پراصرارکیالیکن جب فیملی نے انکارکردیاتوانھیں ایسے وقت جب کہ آدھی رات ہوچکی تھی، ٹرین سے اترجانے کوکہا۔
پلیٹ فارم پرایک اورواقعہ ہواجس کی طرف میڈیانے بھی زیادہ توجہ نہ دی اوردراصل یہی وہ واقعہ ہے جوبعدمیں اس سانحے اورپھرگجرات میں جگہ جگہ مسلمانوں کے ہولناک قتل عام کاسبب بنا۔یہ دراصل ایک بوڑھے مسلم چائے بیچنے والے کی لڑکی کااغواتھا جس نے بعدمیں پتھربازی اورتشددکی راہ اختیارکرلی تھی ۔انہوں نے ایک دوسری مسلم لڑکی کابھی اغواکرلیاتھا ۔۱۸سال کی صوفیہ بانوشیخ اپنی ما ں اور بہن کے ساتھ اپنے رشتے داروں سے ملنے گودھراآئی تھی اوراب واپس اپنے وطن بڑودہ جارہی تھی ۔صوفیہ نے کورٹ کوبتایاتھا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ پلیٹ فارم نمبرایک پرکھڑی تھی جب سابرمتی ٹرین پلیٹ فارم پرآکررکی ۔ماتھے پرتلک کانشان لگائے کچھ لوگ پلیٹ فارم پر اترے اورچائے اوراسنیکس تلاشنے لگے ۔وہ جے شری رام کے نعرے لگارہے تھے ۔ان میں سے کچھ لوگ ایک مسلمان کوڈنڈے سے پیٹ رہے تھے اورزورزورسے چلارہے تھے کہ ’’مسلمانوںکومارو‘‘۔اس سے خوف زدہ ہوکرصوفیہ کی فیملی وہاں سے جانے لگی تو چندکارسیوکوںنے پیچھے سے صوفیہ کوپکڑلیا،اس کے منہ پرزورسے ہاتھ رکھ دیاکہ کچھ بول نہ سکے اوراسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے ۔اس کی ماں مددکے لیے پکارتی رہی ۔صوفیہ کوبعدمیںبوکنگ کلرک کے دفترمیں پناہ ملی ۔صوفیہ نے مزیدبتایاکہ اسٹیشن پرکارسیوکوں نے ایک اورنقاب پوش خاتون کوبھی اغواکرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس اس عورت کوپہچان نہیں پائی اس لیے اس کابیان ریکارڈنہیں کرایاجاسکا۔پولیس نے صوفیہ اوراس کی فیملی کابیان اس حادثے سے ایک ماہ بعد۲۸مارچ کو ریکارڈ کیا۔ جب ۲۲مئی ۲۰۰۲ء کواس معاملے کی پہلی چارج شیٹ فائل کی گئی تواس میں صوفیہ کابیان درج ہی نہیں کیاگیا۔یہ چھ ماہ بعدسپلی مینٹری چارج شیٹ میں درج کیاگیا۔
صوفیہ اورایک دوسری خاتون کے اغواکی خبراس تیزی سے پھیلی کہ وہاںبھیڑجمع ہوگئی ۔اسی ٹرین میں سفرکررہے ایک کارسیوک پرشوت بھائی گووردھن بھائی پٹیل نے عینی گواہ کی حیثیت سےکورٹ کو بتایا تھا کہ یہ بھیڑان لڑکیوں کوچھڑانے کے لیے نعرے لگارہی تھی ۔ٹرین کے ڈرائیورراجندررائورگھوناتھ رائوجادھوکے مطابق :’’جب میںنے ۷بج کر۴۵منٹ پرٹرین کاسگنل دیااورٹرین نے رینگنا شروع کردیاتبھی ۷بج کر۴۷منٹ پرچین پولنگ ہوئی اورٹرین رک گئی ۔میرے اسسٹنٹ ڈرائیوراورگارڈنے دیکھاکہ چین پولنگ کوچ کے اندرسے ہوئی ہے اورہم نے اس بارے میں اسٹیشن ماسٹرکومطلع کیا۔‘‘
اس سلسلے میں چندعینی شاہدین کابیان ہے کہ کارسیکوں نے ہی چین پولنگ کی کیوں کہ ان کے ساتھی ٹرین میں چڑھ نہیں سکے تھے لیکن پولیس نے اپنے بیان میں یہ کہاکہ چین پولنگ دومسلم خوانچہ فروشوں الیاس ملااورانورقلندرنے باہرسے کی تھی ۔پھرٹھیک ۸بجے جب ٹرین نے کچھ فاصلہ طے کرلیااوریہ کیبن نمبرایک تک پہنچ گئی توپھرچین پولنگ ہوگئی۔اوربس یہیں سے ہولناک واردات کاآغازہوگیا۔ اس معاملہ کولے کرپارلی مینٹ میں امرسنگھ نے کہاتھا کہ سابرمتی ٹرین کے راستے بھرکارسیوک غنڈہ گردی کرتے رہے ۔وہ خوانچہ فروشوں سے کوئی چیزلیتے توپیسے دینے سے انکارکردیتے تھے ۔وہ ہراسٹیشن پرمسلم مخالف نعرے لگاتے رہے ،مسلمانوں کے مقدس مقامات کی توہین کرتے رہے ۔اس کی وجہ سے اسٹیشنوں پرموجودمسافروں کوپریشانی ہوتی رہی۔‘‘
میڈیائی خبروںکے مطابق کارسیکوںکی بوگی میں پتھراورلاٹھیا ںرکھی ہوئی تھیں ،یہ اس وقت باہرنکل آئیں جب ایک معصوم بچی کوان ظالموں کے چنگل سے چھڑانے کے لیے وہاں بھیڑجمع ہوگئی ۔ در اصل بجرنک دل کےلوگوں نے ایک بوڑھے مسلم چائے بیچنے والے کی لڑکی کوپکڑلیاتھا اوراسے اپنی بوگی میں لے گئے تھے ۔سولہ سالہ یہ معصوم بچی اپنے ابوکے کام کاج میں ہاتھ بٹانےکے لیے ٹھیلے پرتھی ۔ کار سیوک اس کے پاس آئے ،چائے مانگی اوراس بے چارے بوڑھے کومارناشروع کردیا،اس کی داڑھی کھینچنے لگے۔یہ بیٹی کیسے اپنے ابوکی یہ توہین برداشت کرسکتی چنانچہ اس نے منت سماجت شروع کردی ۔ اس نے اپنے ابوکوبچاناشروع کیامگریہ چھوٹی سی بچی ان ظالموں اورناہنجاروں سے کیسے بچاپاتی ،بس اپنی سی کوشش کرتی رہی ۔ جب یہ بچی مزاحم ہوئی توانہوںنے اسی کوپکڑلیااوراپنے ڈبے میں لے جاکر دروازہ بندکرلیا۔جب ٹرین نے حرکت کرناشروع کی تویہ بوڑھاباپ اپنی بیٹی کولینے کے لیے دوڑتاہوابوگی کے دروازے کی طرف لپکا،کارسیوکوںکے ہاتھ جوڑے۔اس وقت دواورخوانچہ فروش جلدی سے ٹرین میں چڑھ گئے اورچین پولنگ کردی تاکہ بچی کوان ظالموں کے چنگل سے چھڑایاجاسکے ۔اس وقت ٹرین اسٹیشن سے ایک کلومیٹردورجاچکی تھی ۔یہ دونوں خوانچہ فروش بوگی نمبرایس ۶میں آئے اورکارسیوکوں سے منت سماجت کی کہ بچی کوواپس کردو۔معاملہ بہت بڑھ چکاتھا ۔شورشرابے کی آوازسن کرٹریک کے قریب کی بستی کے لوگ جمع ہوگئے ۔بستی کی عورتیں بوگی کے پاس بچی کوواپس کرنے کے لیے احتجاج کرنے لگیں مگر ان سب کے باوجودان لوگوں نے بوگی کادروازہ بندکرلیا۔نتیجہ یہ ہواکہ بھیڑنے بوگی پرپتھرمارناشروع کردیے ۔ایس ۶کے کمپارٹ مینٹ کے دونوں سیکشن وی ایچ پی کے کارکنان سے بھرے تھے انہوںنے اس بھیڑپرحملہ کردیا۔بڑی بڑی لاٹھیاں بوگی کے اندرسے نکال لائے ۔بس پھرکیاتھا ۔تشددشروع ہوگیا۔اس بھیڑنے قریب کھڑے ٹرک اوررکشہ کاپٹرول اورڈیزل نکال نکال کربوگی کوجلاناشروع کر دیا۔ پھراس کے بعدجوہواوہ تاریخ کاسیاہ باب ہے ۔گجرات میں جگہ جگہ فسادات بھڑک اٹھے اوران مرے ہوئے ہندئوں کابدلہ لینے کے لیے گجرات کاہندو’’بیدار‘‘ہوگیا۔
جب یہ معاملہ کورٹ پہنچاتوجھوٹے گواہوںکے بیانات کی بنیادپرکورٹ نے۴۱بے قصورمسلمانوں کوجیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیامگر۲۰۰۷میں تہلکہ نےاسٹنگ آپریشن کرکے ایک سنسنی خیز انکشاف کیاکہ شدت پسند ہندئوں نے یہ دہشت گردی ہندتوا کے تحفظ کے لیے کی تھی اورپولیس نے باقاعدہ طورپرجھوٹے گواہوں کواس کے لیے تیارکیاتھاتاکہ اصل مجرم تک کوئی نہ پہنچ سکے ۔جن پانچ گواہیوں کی بنیادپران بے گناہ مسلمانوںکو کی اپنی ناکردنی کی سزاملی اورجوبعدمیں جھوٹی ثابت ہوئی ،مندرجہ ذیل ہے:
(۱)یہ ۹جھوٹے گواہ تھے جوبی جے پی کے ارکان تھے۔ان کادعویٰ تھا کہ وہ اس وقت جائے حادثہ پرموجودتھےمگرتہلکہ کے خفیہ کیمرے کے سامنے انہوں نے بیان دیاکہ وہ اس دن اوراس وقت اپنے گھرمیں تھے ۔گجرات پولیس نے انہیں جھوٹے بیانات دینے کے لیے تیارکیاتھا۔(۲)اجے باریانامی ایک ہندوخوانچہ فروش کوزبردستی گواہی کے لیے تیارکیاگیا ۔تہلکہ کے سامنے اس کی ماں نے بتایاکہ پولیس نے زبردستی اس کوپولیس گواہ بننے پرمجبورکیااورپولیس نے لگاتاراس پرنگاہ رکھی ۔ احمدآبادہائی کورٹ کوباریاکی گواہی سے شک ہوااوراس نے سوال اٹھایاکہ آخرسازش کرنے والے مسلمان آخری وقت میں پٹرول پمپ سے ٹرین کوجلانے کے لیے کیسے پٹرول لے سکتے ہیں۔(۳)دوپٹرول پمپ مالکان کادعویٰ تھا کہ انہوںنے ۲۶فروری کوکچھ مسلمانوں کے ہاتھوں ۱۴۰؍ لیٹر پٹرول بیچاتھالیکن جب تہلکہ نے انکشاف کیاتوپتہ چلاکہ ان دونوں مالکان رنجی سنگھ اورپرتاپ سنگھ پٹیل نے پہلے پولیس کویہ بتایا کہ انہوںنے اس دن کسی کوبھی پٹرول نہیں بیچاتھا لیکن چھ ماہ بعداچانک اپنابیان بدل دیااورتہلکہ کے کیمرے کے سامنے رنجی سنگھ نے یہ اعتراف کرلیاکہ ایک پولیس افسرنیول پرمارنے پرتاب سنگھ کوبیان بدلنے کے لیے پچاس ہزارروپے کی رشوت دی تھی اوراسے اس بات پربھی مجبور کیا تھاکہ وہ کورٹ کے سامنے ان مسلم ’’خریداروں‘‘کی شناخت کرے ۔(۴)جابربہیریانام کاچھوٹاموٹاکرمنل جس نے پہلے تومولوی عمرجی اس معاملے میںکا ماسٹرمائنڈبتایاکہ بوگی نمبرایس ۶کوٹارگیٹ کیا تھا لیکن بعدمیں اس نے کہاکہ عمرجی کسی بھی سازش میں ملوث نہیں ہے۔(۵)سکندرصدیقی نام کے دوسرے کرمنل نے کہاکہ ٹرین جب دوسری مرتبہ رکی تھی تواسی نے چین پولنگ کی تھی ۔اس نے کہاتھا کہ مولوی پنجابی نے بھیڑکوبھڑکایاتھا مگربعدمیں پتہ چلاکہ اس دن مولوی پنجابی توملک سے ہی باہرتھا ۔
تہلکہ کے انکشاف کے بعداحمدآبادہائی کورٹ کوحقائق کاعلم ہوااورپھراس نے بےقصورمسلمانوںکی رہائی کے احکامات صادرکیے ۔اس پورے معاملے میں تہلکہ کی سینئرایڈیٹررعناایوب کی کوششوں کا بھی بڑادخل ہے ۔انہوںنے میتھی تیاگی بن کردوسال تک گجرات کے بڑے بڑے افسران سے ملاقات کرکے اسٹنگ آپریشن کیا اور ’’گجرات فائلس‘‘کتاب لکھی جس کااردومیں بھی ترجمہ ہوچکاہے ۔ کتاب کامطالعہ بتاتاہےکہ کس طرح مودی اورامت شاہ نےریاست کے بڑے بڑے افسران کواس پورے حادثے کے لیے تیارکیاتھا اور مسلمانوںکومارنے کے لیے کیسی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی ۔
سوال یہ ہے کہ کیاہندوستان کے مسلمان یوں ہی مرتے کٹتے رہیں گے ؟کب وہ وقت آئے گاجب انہیں انصاف ملے گااوروہ برادران وطن کے ساتھ شانہ بشانہ ہنسی خوشی زندگی گزاریں گے ؟ ہم کب اپنی حیثیت منوائیں گے ،کب ہماری طاقت بنے گی ؟ہزاروں آفتیں سرسے گزرچکی ہیں کیااب بھی ان سے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں۔؟کیاابھی بھی اتحادکی کوئی صورت نہیںا؟کیاابھی بھی مسلکی جھگڑوں میں وقت ضائع کیاجاتارہے گا؟کیاایسانہیں ہو گا کہ مسلمان اپنے اپنے مسلک پرقائم رہتے ہوئے قومی یک جہتی کاثبوت پیش کریں ؟میرے کانو ںمیں کوئی سرگوشی کررہاہے کہ میاں!ہم نہیں سدھریں گے ،شایدکوئی عذاب ہی ہمیں سدھارے۔جب تک عالم نمالوگوں پرلیڈربننے کاشوق سواررہے گا،جب تک نام نہادمسلم لیڈران ضمیرفروش بنے رہیں گے اورجب تک ہم اپنے ووٹ پیسے لےکربیچتے رہیں گے تب تک کچھ بھی ہونے والانہیں ۔آزادی کے سترسال گزر چکے مگرہم اب تک وہیں کھڑے ہیں ۔ہم صرف اسی کے پیچھے بھاگتے رہے جسے اچھاسمجھتے رہے مگرہم جسے اپنامسیحاسمجھتے رہے وہ توصرف اپنی روٹی سینکتارہااورہم مرتے رہے۔کبھی رات کو اٹھ کرخداسے پوچھیں کہ’’ مولیٰ!تیری مرضی کیاہے ،ہماری اصلاح کیسے ہوگی ۔توہمیں ان حالات سے نکال دے ۔‘‘اگرایسانہیں کرسکتے تونہ کریں ، بس انتظارکریں کہ اگلاگودھراکب ،کہاں،کس وقت اورکس کے ساتھ ہونے والاہے۔
Saturday, 18 February 2017
ye mazmoon urdu times daily mumbai samit mulk k kai newspapres me publish ho cukha hai
از: صادق رضامصباحی ؕ،ممبئی
رابطہ نمبر:09619034199
sadiqraza92@gmail.com
اویسی کاعروج اورمسلم ذہنیت کازوال
ہمارے محلوں کی ہرگلی کے ہرنکڑاورچوک چوراہے پربس ایک شکوہ زبان زدعام ہے ۔یہ شکوہ دہائیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتااورزبان بہ زبان سفرکرتاآرہاہے۔یہ پسماندگی کاشکوہ ہے ، اِدبار کا شکوہ ہے، استحصال کاشکوہ ہے اورہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوںکاشکوہ ہے مگرسوال یہ ہے کہ آخرہمارامعاشرہ شکایات اورنعروں کامعاشرہ کیوں بن گیاہے؟۔معاف کیجیے گا،ہمارامعاشرہ منافقوں کامعاشرہ ہے جوکا م کرنے والوں اورآگے بڑھنے والوںکوہمیشہ پیچھے ہٹنے پرمجبور کر دیتا ہے۔یہ منافقین کوئی عام لوگ نہیں بلکہ سماج کے سربرآوردہ افرادہیں،یہ نام نہادمسلم لیڈران اور ضمیرفروش مولوی ہیںجواپنی تقریروں اورتحریروں میں توملت اسلامیہ کاروناروتے ہیںمگران کی ابن الوقتی انہیں ملت کے لیے کچھ کرنے نہیں دیتی ۔ملت اسلامیہ ہند، آزادی کے بعدسے کن طوفانوں سے گزرتی آرہی ہے ،اس کے اِعادے کایہ وقت نہیں مگرآج ہم سب کومل بیٹھ کریہ سوچنا ہے کہ جن سعادت مندوںنے ہمارے مسائل اٹھائے ،سیاسی ایوانوں میں ہماری نمائندگی کی اور ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پراحتجاج کیا ،ہم نے ان کے ساتھ کیساسلوک کیا؟واقعہ یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں پرالزامات کی بوچھارکرتے چلے آئے ہیںاورہم نے ان کی کمرتوڑنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاہے۔
تازہ مثال حیدرآبادسے ابھرنے والے بیرسٹراسدالدین اویسی کی ہے جنہیں پوراملک مسلمانوں کاسیاسی نمائندہ کہتاہےمگرہم اسے اپنالیڈرماننے کوتیارنہیں کیوں کہ ہمیںلیڈربننے کا خود بہت شوق ہے۔اویسی پر اشتعال انگیزتقریریں کرنے، مذہب کی سیاست کرنے ، مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرنے کے الزامات ہیں۔ جناب عالی! سادھوی پراچی،یوگی آدتیہ ناتھ،راج ٹھاکرے ،ساکشی مہاراج،پروین توگڑیااوران جیسے ہندوتوالیڈروںکے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے ۔کیایہ محبت کی سیاست کرتے ہیں؟کیاان سے ووٹووں کی تقسیم نہیں ہوتی ۔؟ کیا یہ برادران وطن کے دلوں میں مسلمانوں سے نفرت کابیج نہیں بوتے؟ اویسی پریہ الزام لگاتے وقت ہماری عقلیںکہا ںچرنے چلی جاتی ہیں۔؟اویسی برادران پرایک بڑااعتراض یہ ہے کہ وہ امیدواروں کوٹکٹ دینے کے لیے لاکھوں روپے کامطالبہ کرتے ہیں۔اللہ جانے سچائی کیاہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ آپ جب بی جے پی ، کانگریس ، سماج وادی ،بہوجن سماج پارٹی،شیوسینااوراین سی پی سے ٹکٹ لیتے ہیں توکیاوہ آپ کومفت میں ٹکٹ دیتے ہیں ؟آپ اس وقت توٹکٹ کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے دینے کو بخوشی تیار ہوجاتے ہیں،آپ کوپارٹی کے آقائوں کی چاپلوسی بھی کرنی پڑتی ہےاوران کی جھڑکیاں بھی سننی پڑتی ہیں۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے امیدواروں سے براہ راست فائدہ فرقہ پرستوں کو ہوتا ہے، ایم آئی ایم بی جے پی کی ایجنٹ ہے ، فلاں پارٹی کی دلال ہے ،سودے بازہے وغیرہ وغیرہ۔یہ اعتراض اگربے شعورلوگ کریں تو صبر آجائےمگرجب اعتراض کرنے والے ’’دانشور‘‘ہوںتوایسی دانشوری پرماتم کرنے کوجی چاہتا ہے ۔ پتہ نہیں لوگ اتنی جلدی غلط فہمی کاروگ کیوں پال لیتے ہیں۔ اس اعتراض کی قلعی کھولنے کے لیے کئی مثالیں دی جاسکتی ہیںمگرفی الحال ایک ہی مثال پراکتفاکرتاہوں۔مہاراشٹرکے گزشتہ ریاستی الیکشن میں مجلس نے د و سیٹوں پرکامیابی حاصل کی تھی ،اس میں اسے مہاراشٹر کی 11.05%مسلمانوںکی آبادی کامحض 0.9% ہی ووٹ ملا تھا جب کہ 10%مسلم ووٹ دیگرپارٹیوں نے لیاتھا ۔ اس ۰ء۹؍ فیصد ووٹ میں ہی ایم آئی ایم نے دو سیٹیں جیت لیں۔ذرابتائیے کہ تقسیم کس نے کی ،ایم آئی ایم نے یادیگرپارٹیوںنے؟
یادرکھیے!مسلمان سیاسی پارٹیوں کے صرف ووٹ بینک ہیں۔ پارٹیاں نہیں چاہتیںکہ کوئی ان کے ووٹ بینک میں نقب زنی کرے ۔بس اسی لیے انہیںایم آئی ایم خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے کیوں کہ ایم آئی ایم مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتی ہےاورانہیں ملت کے نام پرمتحدہونے کی دعوت دیتی ہے۔پورے ملک میں اویسی کی تقریروں سے کھلبلی مچ جاتی ہے اسی لیے اس پراشتعال انگیزتقریرکرنے اوریک جہتی کودرہم برہم کرنے کاالزام عائدکیاجاتاہے اورایساکرنے میں سب سے آگے آگے کوئی اورنہیںنام نہاد مسلم لیڈران ہوتےہیںکیوں کہ ایک طرف توان پران کی پارٹی کے آقائوں کادبائوہوتاہے اور دوسری طرف اویسی کے عروج کی صورت میں انہیں اپنی دوکان داری ختم ہوتی نظرآتی ہے ۔
آزادی کے بعد کئی مسلم سیاسی پارٹیاں ابھریں مگروہ بوجوہ ملکی سطح پرقبول عام حاصل نہ کرسکیں ۔ تقسیم ہندسے قبل کی مسلم لیگ تقسیم ہندکے بعدملکی سطح کی سیاسی پارٹی بن سکتی تھی مگریہ صرف کیرلاتک سمٹ کررہ گئی ۔اس کے کئی سالوں کے بعدسابق بیوروکریٹ اورسیاسی لیڈرسیدشہاب الدین نے انصاف پارٹی بنائی مگروہ بھی ناکام ثابت ہوئی ۔آسام میں مولانابدرالدین اجمل قاسمی نے آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک تشکیل دی اوروہاںایک اہم طاقت بھی حاصل کرلی لیکن وہ آسام سے باہرنہیں نکل سکی ۔اترپردیش میں ڈاکٹرایوب نے پیس پارٹی بنائی اورخوش قسمتی سے ۲۰۱۲ء کے ریاستی الیکشن میں اس نے چار امیدواربھی حاصل کرلیے مگریہ بھی ملکی سطح کی سیاسی پارٹی نہیں بن سکی ۔ جماعت اسلامی ہندنے کئی سال قبل ویلفیئرپارٹی لانچ کی ۔۶ صوبوں میںاس نے اپنی شاخیں بھی بنا لی ہیں مگرتاحال وہ کچھ کرنہیں سکی ہے ۔ان تمام پارٹیوں میں ایم آئی ایم ہی ایسی پارٹی ہے جوملک میں ابھر رہی ہے ۔اگرچہ وہ ابھی تک کوئی قابل ذکرکامیابی انجام نہ دے سکی مگراس کے لیے ہاتھ پیر ضرور مار رہی ہے اورمسلمانوں کومتوجہ کر رہی ہے ۔یہ پارٹی پورے ملک کی مسلم پارٹی بن سکتی ہے ۔ا س کے سربراہ بیرسٹراسدالدین اویسی کے بارے میںبلاجھجک کہاجاسکتاہے کہ وہ واقعی مسلم لیڈر ہیں ۔بیس کروڑکی آبادی میں تنہااویسی ہی ہیں جو بے باکی اور جرأت مندی کے ساتھ مسلمانوں کا دفاع کرتے ہیں،زعفرانی میڈیائی کارکنوں کے زہریلے ا ورنوکیلے سوالات کے جوابات دیتے ہیںاور ایوان میں بلاخوف و خطر مسلمانوں کے مسائل اٹھاتے ہیں۔کیامسلمانوں پرہورہے حملے دیگرمسلم لیڈران کو بے چین نہیں کرتے؟ کیااویسی کے سوامسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے کوئی اور مسلم لیڈرنہیںہیں؟ہیں اور یقیناً ہیںمگر وہ جس پارٹی سے آتے ہیں اس کی پالیسیاں انہیں ایک حدتک ہی جانے کی اجازت دیتی ہیں اور کچھ مسلم لیڈروںکوصرف اپنے مفادات کے تحفظ کی فکرہوتی ہے، ملت کابھلاہویانہ ہو ،انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،بس ا ن کے مفادپرضرب نہیں پڑنی چاہیے۔
آزادی کے بعدسے لے کراب تک ہم ہرسیاسی پارٹی اورہرمسلم لیڈرکوآزماچکے ہیں۔ہم نے انہیں ایک بار نہیں کئی کئی بارآزمایامگرہمیں ملاکیا؟ہمیں شہددکھایاگیااورزہرپلایاگیا۔مسلمانوں میں بہت مشکل سے کوئی لیڈرقومی سطح پربرسوں بعدابھراہے۔ اس کاایک مضبوط سیاسی بیک گرائونڈ ہے ۔ ان حالات میںکیاہمیں اویسی کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے ،ا س کے حوصلوں کوسلام نہیں کرنا چاہیے اور اس کا تعاون نہیں کرناچاہیے ؟ ہم میں سے کچھ لوگ اویسی برادران کومنہ بھربھرگالیاں دیتے ہیں۔چاروں طرف سے ان پروارہورہے ہیں ،وہ اپناوقت اپنے ان دشمنوں پرنہیں لگاتے ہوں گے جتناایم آئی ایم پرلگاتے ہیں۔ہم شکوہ کرتے ہیں کہ دشمن ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں ؕ،جناب انہیں کوئ ضرورت نہیں سازش کرنے کی ؕ،کیوں کہ اپنے خلاف ہم لوگ خودہی سازشیں کررہے ہیں ؕ،ہم مانیں یانہ مانیں ہم لوگ ہی خوداپنے دشمن ہیں ۔جب تک ہم لوگ خودسے دشمنی کرنانہیںچھوڑیں گے تب تک ہمیں اپنے خلاف دوسروں کی ؕ"سازشیں "ہی نظرآئیں گی۔
اگرکچھ لوگوں کوایم آئی ایم میں برائی نظرآتی ہے توانہیں ایک حدیث شریف ہمیشہ پیش نظررکھنی چاہیے ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایاکہ جب دوبری چیزوں کاانتخاب کرناہوتوان دومیں سے وہ چیزمنتخب کروجس میں کم برائی ہو۔اس حدیث نبوی کی روشنی میں اگرہم دیگرسیاسی پارٹیوں اورایم آئی ایم کے درمیان تجزیہ کریں توایم آئی ایم میں ہمیں’’کم برائی‘‘محسوس ہوگی اس لیے میرایہ کہنابالکل بجاہے کہ اویسی ان نہادمسلم لیڈران سے کروڑوں درجہ بہترہے جومسلمانوں کاصرف جذباتی استحصال کرتے آرہے ہیں۔ایسے منظرنامے میں ہم اگراویسی کوآزمالیں اورایم آئی ایم کوتقویت پہنچائیں توحرج ہی کیاہے۔ہاں!اگرہمیں اس کی پارٹی سے کچھ شکایات ہیں توپارٹی قیادت سے مل کرانہیں سلجھایاجاسکتاہے ۔غلط فہمی پھیلانے اورنفرت کابیج بونے کی کیاضرورت ہے۔
ایک بات اور،ہم دورزوال میں جی رہے ہیں۔ہمیں اس زمانے میں خلفاے راشدین کی طرح لیڈرنہیں مل سکتے ۔ایسے وقت میں کہ جب ہماری اقدارکاستیاناس ہوچکاہو،ہمیں کوئی بھی چیزمکمل اورمعیاری نہیں مل سکتی ۔اس لیے ہمیں کم معیارپرہی راضی ہوناہوگاورنہ حالات جس رخ پرجارہے ہیں ،اس سے مستقبل کی پیشین گوئی آسانی سے کی جاسکتی ہے ۔
اویسی میرارشتہ دارنہیں ،میری ان سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی ،صرف ان کی چند تقریریں سنی ہیں اورچندویڈیوزدیکھی ہیں،میں ان سے ملاقات کاخواہش مندبھی نہیں، میں اویسی کو اللہ کاولی نہیں سمجھتااورمیں اس سے ہرگزیہ توقع بھی نہیں رکھتاکہ وہ حضرت ابوبکرصدیق،حضرت عمرفاروق اعظم اورحضرت عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی طرح مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرے گا مگر مجھے اس سے ہمدردی ہے اوریہ ہمدردی میرے ایمان کاتقاضاہے ۔
یقین کرلیجیے ، مسلمانوں کی مضبوط سیاسی نمائندگی اسی وقت ہوسکتی ہے جب آپ کی اپنی سیاسی پارٹی ہو۔آپ کوآج نہیں توکل اس طرف توجہ دینا ہی ہوگی ۔جوکام کل کرناہے وہ آج کیوں نہیں کر لیتے۔اویسی کی مخالفت کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی مسلمانوں کاسیاسی شعور اتنازیادہ پختہ نہیں ہواہے کہ وہ اس کی اہمیت سمجھیں لیکن جلدیابدیراویسی اپنی اہمیت منوا کر رہے گا۔ اگر آپ اویسی کو ووٹ نہیں دیتے تونہ دیں مگرکم ازکم اس کی حوصلہ شکنی تونہ کریں ،اس پر الزام تومت رکھیں۔میرااحساس ہے کہ ایم آئی ایم کی صورت میں اللہ نے ہمیں ایک موقع عنایت کیا ہے ، اس موقع کوضائع نہ کریں۔ہزاروں طوفان سرسے گزرچکے اورابھی نہ جانے کتنے طوفان آنے باقی ہیں اس لیے خدارا!سوچ بدلیں۔اب کسی اورطوفان کودعوت نہ دیںکیو ںکہ بازوشل ہوچکے ہیں، قوت برداشت جواب دے چکی ہے ۔ کوئی ہے جومیری آوازپرلبیک کہے،کوئی ہے؟کوئی ہے؟
Subscribe to:
Comments (Atom)

